ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / دہلی کے جہانگیر پوری تشدد معاملے میں پانچ مسلم لوگوں پر لگا نیشنل سیکوریٹی ایکٹ

دہلی کے جہانگیر پوری تشدد معاملے میں پانچ مسلم لوگوں پر لگا نیشنل سیکوریٹی ایکٹ

Thu, 21 Apr 2022 11:18:43    S.O. News Service

نئی دہلی ، 21؍اپریل (ایس او نیوز؍ایجنسی)جہانگیرپوری تشدد کے 5 ملزموں پر نیشنل سکیورٹی ایکٹ (این ایس اے)لگا دیا گیا ہے۔ ان لوگوں پر 16 اپریل کو علاقے میں جلوس کے دوران ہونے والے تشدد میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔ ان میں انصار نامی نوجوان کلیدی ملزم ہے۔ تاہم جہانگیر پوری کیس میں پولیس خود کئی تنازعات میں پھنس چکی ہے۔ ان کے ہر عمل پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ قومی سلامتی ایکٹ ایک ایسا قانون ہے جو حکومت کو کسی شخص کو حراست میں لینے کا اختیار دیتا ہے، ایسے ملزم پر NSA لگایا جا سکتا ہے اگر افسر مطمئن ہو کہ وہ قومی سلامتی کیلئے خطرہ ہے یا امن عامہ کو بگاڑ سکتا ہے۔ یہی این ایس اے پانچ ملزموں پر لگایا گیا ہے۔

ذرائع  کے مطابق دہلی پولیس نے انصار، سلیم چکنا، امام شیخ عرف سونو، دلشاد اور احمد کے خلاف این ایس اے لگایا ہے۔ مرکزی حکومت نے دہلی پولیس کو 16اپریل کی جھڑپوں میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کرنے کی ہدایت دی ہے۔ مرکز نے دہلی حکومت سے کہا ہے کہ وہ سخت کارروائی کرکے ایک مثال قائم کرے تاکہ دہلی یا ملک میں کہیں بھی ایسا واقعہ دوبارہ نہ ہو۔ اس سے قبل دہلی پولیس نے مرکزی وزارت داخلہ کو بھیجی گئی ایک رپورٹ میں جہانگیرپوری فرقہ وارانہ تشدد کے پیچھے مجرمانہ سازش کو ایک اہم وجہ قرار دیا تھا۔ رپورٹ میں اب تک کی گئی گرفتاریاں اور تشدد کی تحقیقات کیلئے بنائی گئی ٹیمیں اور دیگر اہم معلومات شامل ہیں۔ رپورٹ میں شوبھا یاترا کے حوالے سے دی گئی اجازت کے حوالے سے بھی صورتحال واضح کی گئی ہے۔جلوس کے دوران پستول، تلوار، لاٹھی، چاقو وغیرہ لہرانے والے ملزموں کے خلاف پولیس نے ابھی تک کیا کارروائی کی ہے اس پر پولیس خاموش ہے۔

نیشنل سیکورٹی ایکٹ کیا ہے؟:نیشنل سکیورٹی ایکٹ (NSA) یا قومی تحفظ قانون (RASuka)، ایک ایسا قانون ہے جس کے تحت کسی شخص کو کسی خاص خطرے کی وجہ سے حراست میں لیا جاسکتا ہے۔ اگر انتظامیہ کو لگتا ہے کہ کسی شخص کی وجہ سے ملک کی سلامتی اور ہم آہنگی کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے تو ایسا ہونے سے پہلے ہی اس شخص کو راسوکا کے تحت حراست میں لے لیا جاتا ہے۔یہ قانون 1980 میں ملک کی سلامتی کیلئے حکومت کو زیادہ اختیار دینے کے مقصد سے بنایا گیا تھا۔ اس قانون کو پولیس کمشنر، ڈی ایم یا ریاستی حکومت استعمال کر سکتی ہے۔ اگر حکومت کو لگتا ہے کہ کوئی شخص ملک میں بغیر کسی مطلب کے رہ رہا ہے اور اسے گرفتار کرنے کی ضرورت ہے تو اسے بھی گرفتار کیا جا سکتا ہے۔ مجموعی طور پر یہ قانون کسی بھی مشکوک شخص کو حراست میں لینے یا گرفتار کرنے کا حق دیتا ہے۔


Share: